کاروار :3؍اپریل (ایس اؤ نیوز ) میگنیز سپلائی کےد ورمیں زبردست آمدنی کا ذریعہ بننے والی بحرہ عرب کے ساحل پر واقع کاروار کی تجارتی بندرگاہ کی آمدنی میگنیز سپلائی بند ہونے کے بعد کمی آئی تھی ۔ لیکن پھر کچھ دہوں کے بعد تجارتی بندرگاہ ریکارڈ آمدنی کرنا شروع کی ہے۔ سال 2022-23میں بندرگاہ نے کل 21کروڑروپئے کی راست آمدنی درج کی ہے۔
چنددہوں پہلے تجارتی بندرگاہ سے ڈیزل، تیل ، گرانائٹ سمیت 10سے زائد پروڈکٹس کی آمدو رفت ہوتی تھی ۔ پھر اس کے بعد میگنیز کی بر آمد شروع ہوئی تو بھرپور آمدنی ہونے لگی جب مینگنیز سپلائی بند ہوگئی تو چند ہی اشیاء کی آمد ورفت ہونے سے آمدنی میں کمی ہوتی گئی اور بندرگاہ کی راست آمدنی صرف 5سے 10کروڑ روپئے تھی۔
سال 2022-23میں ڈیزل، پا م تیل ، راک فاسفیٹ، انڈسٹرئیل سالٹ، تارکول(ڈامبر)کی درآمد اور مولاسس، کاسٹک سوڈاجیسے پروڈکٹس کی بر آمد کا کاروبارکے ذریعے 21کروڑروپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ کل 4،47،026میٹرک ٹن پروڈکٹس درآمد کرنے والی بندرگاہ سے 4،66،293میٹرک ٹن سامان برآمد کیاگیا ہے۔ تجارتی بندرگاہ کی آمدنی میں گذشتہ مرتبہ سے 24فی صد اضافہ ہواہے۔ تارکول اور نمک کی در آمد کی شرح میں زبردست اضافہ ہواہے۔ مولاسیس کی سپلائی گذشتہ مرتبہ اس مرتبہ 1لاکھ ٹن زائد ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل جہازوں کی آمد سے سال کے بارہ مہینے بھی تجارتی سرگرمیاں ہوتی رہنےکی بندرگاہ کے کمشنر سریش شٹی نے جانکاری دی ۔
ملک کی بندرگاہوں میں سے کاروار کی بندرگاہ ایک قدرتی اور انوکھی بندرگاہ میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن یہاں بڑے جہازوں کو لنگر ڈالنے کےلئے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے۔کیونکہ بڑی جہازوں کو لنگر کےلئے گہرا ہونا ضروری ہے۔ ساحل پر کیچڑ ہونےکی وجہ سے 5ناٹیکل میل دور دیوگڑھ لائٹ ہاؤس کے قریب ہی جہازوں کو لنگر ڈالنا ہوتاہے۔ پھر وہاں سے ٹگ بوٹوں کے ذریعے سامان بندرگاہ پر پہنچایاجاتا ہے۔ اگر بندرگاہ میں ذخیرہ ہونےوالے کیچڑ کو صاف کیاگیا تو بڑے جہاز راست بندرگاہ تک پہنچ کر لنگر ڈالنا ممکن ہونےکا ایک افسر نےخیال ظاہر کیا۔
بندرگاہ کی آمدورفت سے ریاستی حکومت کی میری ٹائم بورڈکو 21کروڑروپئے کی آمدنی ہوتی ہے۔ مرکزی ٹیکس (کسٹم) محکمہ کو قریب 300کروڑروپئے ، جی ایس ٹی کے ذریعے 3.6کروڑروپئے کی کمائی ہوئی ہے۔ گذشتہ مالی سال میں 16.69کروڑروپئے کی آمدنی ہوئی تھی تو 179.33کروڑروپئے کسٹم محکمہ کو اور 2.98کروڑ روپئے جی ایس ٹی کے ذریعے موصول ہوئے تھے۔ اور کل 148جہازوں نے لنگر کیا تھا۔
میری ٹائم بورڈ کے ڈائرکٹر کیاپٹن سی سوامی کا کہنا ہے کہ تجارتی بندرگاہ کے حجم میں اضافہ کا پلان بنایا گیا ہےاور کیچڑ نکالنے کےلئے ٹینڈر کارروائی شروع ہوگئی ہے۔